افضل صاحب کی تحریر کی بدولت کچھ خیلات ذھن میں آۓ۔
من کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔
میں اس مضمون پر بہت عرصے سے کچھ کہنا چاہتا تھا مگر ہمشہ مناسب الفاظ کی عدم دستیابی کی وجہ سے چپ اختیار کی (ویسے اس قول پر بھی عمل کرتا ہوں کہ جب تک آپ چپ رہتے ہو لوگ آپ کو دانا سمجھتے ہیں)
تقریبا 3،4 ماہ پہلے میں نے اپنے ہم مکتبوں سے یہ سوال کیا کہ کیا تم نے کبھی زنا کیا ہے؟تو ان کے جواب جیران کن تھے (کم ازکم میرے لیے)میں نے 12 لڑکوں سے یہ سوال رینڈم لی کیا،جس میں سے سات نے ہاں اور باقی نے نہ میں جواب دیا۔ہمارا معاشرہ تیزی سے انحطاط پزیر ہو رہا ہے اور ہم اس کے لیے کچھ خاص نہیں کررہے۔
ایک طرف تو ہم لڑکے لڑکیوں کو مخلوط تعلیم دیتے ہیں کہ وہ اچھی طرح ایک دوسرے کو سمجھ لیں دوسری طرف ہم یہ شرائط بھی عائد کرتے ہیں کہ لڑکی 24 سال کہ بعد اور لڑکا جب کمانے لگے تب شادی کرنی ہے۔
ہمیں اس بات کا تو اقرار کرنا پڑے گا کہ مغرب والے ہم سے تعلیم میں بہت آگے ہیں ،تو کیا ان کی تعلیم کبھی ختم ہوتی ہے؟
ہمارا ٹی وی کس بات کے سبق صبح شام بچوں کو دیتا ہے؟
ہمارے ماں باپ ہمیں جب تک کمانے نہیں لگتے ہمیں ہر طرح کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔جس کے بدلہ میں وہ چاہتے ہیں کہ بچہ اس وقت تک شادی کی بات نہ کرے جب تک وہ نہ چاہے
ہمارا نوجوان(عام) اس کہ لیے تغلیم کے علاوہ کیا اور کام ہے؟
تعلیم ۔۔۔۔۔
وہ بھی امتحان والے دن اکثر پڑھتے ہیں!
پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے (state of confusion)
اور جو ہونا چاہے وہ نہیں ہورہا۔
آخری بات۔۔
ہم برے کا تو بڑی دیدہ دلیری سے کرتے ہیں،مگر اچھے کام کرتے وقت شرما جاتے ہیں؟۔۔۔ ہاۓ معاشرہ کیا کہے گا!